فهرس الكتاب

الصفحة 370 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

370 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَدِّ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنِّي لَأَرُدُّ التَّثَاؤُبَ بِالتَّنَحْنُحِ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: 'صلاۃمیں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے،جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے توجہاں تک ہو سکے اسے روکے' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابوسعید خدری اورعدی بن ثابت کے دادا (عبیدبن عازب) سے بھی احادیث آئی ہیں،۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے صلاۃ میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں۔

۱؎: اوراگر روکنا ممکن نہ ہوتومنہ پرہاتھ رکھے، کہتے ہیں: ہاتھ رکھنا بھی اسے روکنے کی کوشش ہے ، جس کا حکم حدیث میں ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت