فهرس الكتاب

الصفحة 515 من 3890

کتاب: جمعہ کے احکام ومسائل

515 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ يَخْطُبُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ فَقَالَ عُمَارَةُ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيُدَيَّتَيْنِ الْقُصَيَّرَتَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَّابَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

حصین کہتے ہیں کہ بشربن مروان خطبہ دے رہے تھے ، انہوں نے دعا ۱؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کوکہتے سنا: اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کوغارت کرے،میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھاآپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اورہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: صحیح مسلم میں 'فی الدعاء'کا لفظ نہیں ہے ، مولف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیاہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعاء میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے، اورمسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھاناچاہئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺنے دورانِ خطبہ بارش کے لیے دعاکی اور ہاتھ اٹھایا،تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء (بارش کے طلب) کی دعاتھی اس لیے اٹھایاتھا،صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ 'نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت