فهرس الكتاب

الصفحة 1878 من 3890

کتاب: مشروبات( پینے والی چیزوں)کے احکام و مسائل

1878 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ قَال سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى لَيْلَى يُحَدِّثُ أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنِّي كُنْتُ قَدْ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَقَالَ هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَالْبَرَاءِ وَعَائِشَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں: حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا، انہوں نے پانی کواس کے منہ پر پھینک دیا، اورکہا: میں اس سے منع کرچکا تھا،پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکارکیا ۱؎ ، بے شک رسول اللہﷺ نے سونے اورچاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایاہے، اورریشم پہننے سے اوردیباج سے اورفرمایا:' یہ ان (کافروں) کے لیے دنیامیں ہے اورتمہارے لیے آخرت میں ہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- اس باب میں ام سلمہ، براء ، اورعائشہ رضی اللہ عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔

۱؎: یعنی میں نے اسے پہلے ہی ان برتنوں کے استعمال سے منع کردیاتھا، لیکن منع کرنے کے باوجود جب یہ باز نہ آیا تبھی میں نے اس کے چہرہ پر یہ پانی پھینکا تاکہ آئندہ اس کا خیال رکھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت