فهرس الكتاب

الصفحة 1466 من 3890

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

1466 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْحَجَّاجِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يُرَخِّصُونَ فِي صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوسِ وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ هُوَ الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ

جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں مجوسیوں کے کتے کے شکارسے منع کیا گیاہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اکثراہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ مجوسی کے کتے کے شکار کی اجازت نہیں دیتے ۔

نوٹ: (سند میں دوراوی'شریک القاضی' اور'حجاج بن ارطاۃ' ضعیف ہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت