فهرس الكتاب

الصفحة 665 من 3890

کتاب: زکاۃ وصدقات کے احکام ومسائل

665 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ فِي يَدِهِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أُمِّ بُجَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبدالرحمن بن بجید کی دادی ام بجیدحوّا رضی اللہ عنہا (جورسول اللہﷺ سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیزنہیں ہوتی۔ (تومیں کیا کروں؟) رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا:'اگر اسے دینے کے لئے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھُرہی ملے تووہی اس کے ہاتھ میں دے دو' ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ام بجید رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں علی، حسین بن علی، ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: اس میں مبالغہ ہے، مطلب یہ ہے کہ سائل کو یوں ہی مت لوٹاؤجو بھی میسرہو اسے دیدو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت