فهرس الكتاب

الصفحة 400 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

400 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَطَاءٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي شَيْبَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ

سعید بن یزید (ابومسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہﷺ اپنے جوتوں میں صلاۃ پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھتے تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، عبداللہ بن ابی حبیبۃ ، عبداللہ بن عمرو ، عمرو بن حریث، شداد بن اوس ثقفی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اورعطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔

۱؎: ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: یہودیوں کی مخالفت کرو وہ جوتوں میں صلاۃ نہیں پڑھتے ، علماء کہتے ہیں کہ اگرجوتوں مں نجاست نہ لگی ہو تو ان میں صلاۃ یہودیوں کی مخالفت کے پیش نظرمستحب ہوگی ورنہ اسے رخصت پرمحمول کیا جائے گا ، مساجد کی تحسین وطہارت کے پیش نظرجہاں دریاں ، قالین وغیرہ بچھے ہوں وہاں جوتے اُتار کر صلاۃ پڑھنی چاہئے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت