فهرس الكتاب

الصفحة 1919 من 3890

کتاب: نیکی اورصلہ رحمی کے بیان میں

1919 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ زَرْبِيٍّ قَال سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَ شَيْخٌ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَأَ الْقَوْمُ عَنْهُ أَنْ يُوَسِّعُوا لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَزَرْبِيٌّ لَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک بوڑھا آیا ، وہ نبی اکرم ﷺ سے ملنا چاہتاتھا ، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اورہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے '۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ،۲- راوی زربی نے انس بن ما لک اور دوسرے لوگوں سے کئی منکرحدیثیں روایت کی ہیں،۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ ، ابن عباس اورابوامامہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

نوٹ: (شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی 'زربی' ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الصحیحہ رقم: ۲۱۹۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت