فهرس الكتاب

الصفحة 2699 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

2699 حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ بَغْدَادِيٌّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ قَبْلَ الْكَلَامِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدْعُوا أَحَدًا إِلَى الطَّعَامِ حَتَّى يُسَلِّمَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ذَاهِبٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ زَاذَانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' بات چیت شروع کرنے سے پہلے سلام کیاکرو'۔ اور اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:' کسی کو کھانے پر نہ بلاؤ جب تک کہ وہ سلام نہ کرلے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث منکر ہے ہم اس حدیث کو اس سند کے سوا کسی اور سند سے نہیں جانتے،۲- میں نے محمدبن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سناہے کہ عنبسہ بن عبدالرحمن حدیث بیان کرنے میں ضعیف اور بہکنے والے، اور محمد بن زاذان منکرالحدیث ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت