فهرس الكتاب

الصفحة 1050 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

1050 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ:"لاَ تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا إِلَيْهَا". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ.

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الإِسْنَادِ، نَحْوَهُ.

ابومرثدغنوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:' قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کرکے صلاۃ پڑھو '۲؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: اس میں قبرپربیٹھنے کی حرمت کی دلیل ہے، یہی جمہورکا مسلک ہے اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے انسان کی تذلیل ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے توقیروتکریم سے نوازاہے۔

۲؎: اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس سے مشرکین کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے اورغیراللہ کی تعظیم کا پہلوبھی نکلتاہے جوشرک تک پہنچانے والا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت