فهرس الكتاب
118 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يَنَامُ، وَهُوَ جُنُبٌ وَلاَ يَمَسُّ مَاءً.
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺسوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اورآپ جنبی ہوتے ۱؎ ۔
۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جنبی وضواور غسل کے بغیر سوسکتا ہے، رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل بیانِ جواز کے لیے ہے تاکہ امت پر یشانی میں نہ پڑے، رہا اگلی حدیث میں آپ کا یہ عمل کہ آپ جنابت کے بعد سونے کے لیے وضو فرمالیا کرتے تھے تو یہ افضل ہے ، دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤنہیں۔