1676 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقِيلَ لَهُ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ قُلْتُ أَيَّتُهُنَّ كَانَ أَوَّلَ قَالَ ذَاتُ الْعُشَيْرِ أَوْ الْعُشَيْرَةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے بغل میں تھا کہ ان سے پوچھاگیا: نبی اکرم ﷺ نے کتنے غزوات کیے؟ کہا: انیس ۱؎ ، میں نے پوچھا: آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے ؟ کہا: سترہ میں،میں نے پوچھا: کون ساغزوہ پہلے ہواتھا؟ کہا: ذات العشیریاذات العُشیرہ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۱؎: مراد وہ غزوات ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ خود شریک رہے، خواہ قتال کیا ہو یانہ کیا ہو، صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوات کی تعداد اکیس (۲۱) ہے، ایسی صورت میں ممکن ہے زید بن ارقم نے دوکا تذکرہ جنہیں غزوہ ابوا اور غزوہ بواط کہاجاتاہے اس لیے نہ کیا ہو کہ ان کا معاملہ ان دونوں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان سے مخفی رہ گیا ہو۔