فهرس الكتاب

الصفحة 1881 من 3890

کتاب: مشروبات( پینے والی چیزوں)کے احکام و مسائل

1881 حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِي وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَى عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْبَزَرِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَأَبُو الْبَزَرِيِّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُطَارِدٍ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اورکھڑے ہوکرپیتے تھے ۱؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث 'عبیداللہ بن عمر،عن نافع، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سند سے صحیح غریب ہے، ۲- عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمرسے روایت کی ہے،۳- ابوالبزری کانام یزید بن عطاردہے۔

۱؎: اس سے پہلے والی حدیث سے معلوم ہواکہ کھڑے ہوکر کھانا پینا منع ہے، اس حدیث سے اس کے جواز کا پتہ چلتاہے، دونوں حدیثوں میں تطبیق کی یہ صورت ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیاجائے گا (یعنی نہ پینا بہتراوراچھاہے) جب کہ اس حدیث کو کراہت کے ساتھ جواز پر محمول کیاجائے گا۔یعنی جہاں مجبوری ہووہاں ایساکرناجائزہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت