فهرس الكتاب

الصفحة 114 من 3890

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل

114 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ح قَالَ و حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَذْيِ فَقَالَ مِنْ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنْ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ مِنْ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنْ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: 'مذی سے وضو ہے اورمنی سے غسل ' ۲؎ ۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کئی سندوں سے مرفوعًامروی ہے کہ' مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل '، ۴- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثراہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔

۱؎: حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، اس سے صرف وضو ٹوٹتاہے، مذی سفید، پتلا لیس دارپانی ہے جوبیوی سے چھیڑچھاڑکے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مردکی شرم گاہ سے خارج ہوتا ہے ۔

۲؎: خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑچھاڑسے ،یا خواب (نیند) میں ، بہرحال اس سے غسل واجب ہوجاتاہے۔

نوٹ: (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت