فهرس الكتاب

الصفحة 919 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

919 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ أَنَّهُ كَانَ يُمْسِكُ عَنْ التَّلْبِيَةِ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا لَا يَقْطَعُ الْمُعْتَمِرُ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا انْتَهَى إِلَى بُيُوتِ مَكَّةَ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مرفوعًا روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرہ میں تلبیہ پکارنا اس وقت بند کرتے جب حجر اسود کا استلام کرلیتے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ عمرہ کرنے والا شخص تلبیہ بند نہ کرے جب تک کہ حجر اسود کا استلام نہ کرلے،۴- بعض کہتے ہیں کہ جب مکے کے گھروں یعنی مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ پکارنا بندکردے۔ لیکن عمل نبی اکرمﷺ کی (مذکورہ) حدیث پرہے۔ یہی سفیان ، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔

نوٹ: (سند میں محمدبن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت