1026 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ هُوَ أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ مِنْ السُّنَّةِ الْقِرَاءَةُ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے جنازے میں سورۂ فاتحہ پڑھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے،۲- ابراہیم بن عثمان ہی ابوشیبہ واسطی ہیں اور وہ منکرالحدیث ہیں۔صحیح چیز جو ابن عباس سے مروی ہے کہ ـ جنازے کی صلاۃ میں سورۂ فاتحہ پڑھنا سنت میں سے ہے،۳- اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے۔
نوٹ: (اگلی اثر کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی 'ابراہیم بن عثمان' ضعیف ہیں )