فهرس الكتاب

الصفحة 1133 من 3890

کتاب: نکاح کے احکام ومسائل

1133 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت ۱؎ ، زانیہ کی کمائی ۲؎ اور کاہن کی مٹھائی ۳ ؎ سے منع فرمایاہے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج ، ابوجحیفہ، ابوہریرہ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

۱؎: کتا نجس ہے اس لیے اس سے حاصل ہو نے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتامنہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خریدوفروخت اوراس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، الایہ کہ کسی اشدضرورت مثلًا گھرجائداداورجانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔

۲؎: چونکہ زناکبیرہ گناہ اورفحش امورمیں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہو نے والی اجرت بھی ناپاک اورحرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزادعورت ۔

۳؎: علم غیب اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے، اسی طرح اس دعویٰ کی آڑمیں کاہن اورنجومی عوام سے باطل طریقے سے جومال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت