فهرس الكتاب

الصفحة 1403 من 3890

کتاب: دیت وقصاص کے احکام ومسائل

1403 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ هُوَ الْبَصْرِيُّ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ أَخْفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يُرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا:' خبردار! جس نے کسی ایسے ذمی ۱؎ کو قتل کیا جسے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی پناہ حاصل تھی تو اس نے اللہ کے عہد کو توڑ دیا ،لہذا وہ جنت کی خوشبونہیں پاسکے گا، حالانکہ اس کی خوشبوستر سال کی مسافت (دوری) سے آئے گی '۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- نبی اکرمﷺ سے ابوہریرہ کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے ،۳- اس باب میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

۱؎: ایسا کافر جو کسی اسلامی مملکت میں مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد وپیمان کے مطابق رہ رہاہو خواہ جزیہ دے کر معاہدہ کرکے رہ رہاہو یا دار الحرب سے معاہدہ یا امان پر دار السلام میں آیا ہو، اسے مسلمانوں کی پناہ اس وقت تک حاصل ہوگی جب تک وہ بھی اپنے معاہدہ پر قائم رہے، یا اپنے وطن دار الحرب لوٹ جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت