فهرس الكتاب

الصفحة 1334 من 3890

کتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں

1334 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ كَتَبَ أَبِي إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضٍ أَنْ لَا تَحْكُمْ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحْكُمْ الْحَاكِمُ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو بَكْرَةَ اسْمُهُ نُفَيْعٌ

عبدالرحمن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کو جوقاضی تھے خط لکھا کہ تم غصہ کی حالت میں فریقین کے بارے میں فیصلے نہ کرو،کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے:' حاکم غصہ کی حالت میں فریقین کے درمیان فیصلے نہ کرے' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوبکرہ کانام نفیع ہے۔

۱؎: اس لیے کہ غصے کی حالت میں فریقین کے بیانات پرصحیح طورسے غوروفکرنہیں کیاجاسکتا، اسی پرقیاس کرتے ہوئے ہر اس حالت میں جوفکرانسانی میں تشویش کاسبب ہوفیصلہ کرنا مناسب نہیں اس لیے کہ ذہنی تشویش کی حالت میں صحیح فیصلہ تک پہنچنا مشکل ہوتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت