فهرس الكتاب

الصفحة 1461 من 3890

کتاب: حدود وتعزیرات سے متعلق احکام ومسائل

1461 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْرِقُوا مَتَاعَهُ قَالَ صَالِحٌ فَدَخَلْتُ عَلَى مَسْلَمَةَ وَمَعَهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَوَجَدَ رَجُلًا قَدْ غَلَّ فَحَدَّثَ سَالِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَأَمَرَ بِهِ فَأُحْرِقَ مَتَاعُهُ فَوُجِدَ فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفٌ فَقَالَ سَالِمٌ بِعْ هَذَا وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ إِنَّمَا رَوَى هَذَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ وَهُوَ أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَالِّ فَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِحَرْقِ مَتَاعِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جس شخص کو اللہ کی راہ میں مال (غنیمت ) میں خیانت کرتے ہوئے پاؤ اس کا سامان جلادو'۔

صالح کہتے ہیں: میں مسلمہ کے پاس گیا ، ان کے ساتھ سالم بن عبداللہ تھے تومسلمہ نے ایک ایسے آدمی کوپایا جس نے مال غینمت میں خیانت کی تھی، چنانچہ سالم نے (ان سے) یہ حدیث بیان کی، تو مسلمہ نے حکم دیا پھراس (خائن ) کا سامان جلادیاگیا اور اس کے سامان میں ایک مصحف بھی پایاگیاتو سالم نے کہا: اسے بیچ دواور اس کی قیمت صدقہ کردو۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں،۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھاتو انہوں نے کہا: اسے صالح بن محمدبن زائدہ نے روایت کیا ہے، یہی ابوواقدلیثی ہے،یہ منکرالحدیث ہے،۳- بخاری کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے دوسری احادیث بھی آئی ہیں،آپ نے ان میں اس (خائن) کے سامان جلانے کا حکم نہیں دیا ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی، احمد اوراسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔

نوٹ: (سند میں 'صالح بن محمد بن زائدہ' ضعیف ہیں)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت