فهرس الكتاب

الصفحة 63 من 3890

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل

63 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا

قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے (وضو کرنے سے) منع فرمایا ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے،۲- بعض فقہا ء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قراردیاہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوے پانی کومکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھو ٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت