فهرس الكتاب

الصفحة 1542 من 3890

کتاب: نذراورقسم(حلف)کے احکام ومسائل

1542 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَبْعَةَ إِخْوَةٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ لَطَمَهَا عَلَى وَجْهِهَا

سوید بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:صورتِ حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اس کوطمانچہ ماردیا، تو نبی اکرمﷺ نے حکم دیاکہ ہم اس کوآزاد کردیں۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۲- اسے حصین بن عبدالرحمن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سویدبن مقرن مزنی نے 'لطہما علی وجہہا' کہا (یعنی اس نے اس کے چہرے پرطمانچہ مارا) ۔ ۳- اس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت