فهرس الكتاب

الصفحة 943 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

943 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ ذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ حَاضَتْ فِي أَيَّامِ مِنًى فَقَالَ أَحَابِسَتُنَا هِيَ قَالُوا إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا إِذًا قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا طَافَتْ طَوَافَ الزِّيَارَةِ ثُمَّ حَاضَتْ فَإِنَّهَا تَنْفِرُ وَلَيْسَ عَلَيْهَا شَيْءٌ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے ذکر کیا کہ صفیہ بنت حیی منیٰ کے دنوں میں حائضہ ہوگئی ہیں، آپ نے پوچھا:' کیا وہ ہمیں (مکے سے روانہ ہونے سے ) روک دے گی؟' لوگوں نے عرض کیا: وہ طواف افاضہ کرچکی ہیں، تورسول اللہﷺ نے فرمایا: 'تب تو کوئی حرج نہیں'۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پرعمل ہے کہ عورت جب طواف زیارت کرچکی ہو اور پھر اسے حیض آجائے تو وہ روانہ ہوسکتی ہے، طوافِ وداع چھوڑ دینے سے اس پرکوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ یہی سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت