فهرس الكتاب

الصفحة 787 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

787 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصِّيَامِ وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَيْضًا وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافًا إِنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصِّيَامَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعُبَيْدَةُ هُوَ ابْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ الْكُوفِيُّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الْكَرِيمِ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ہمیں حیض آتا پھر ہم پاک ہوجاتے تو آپ ہمیں صیام قضاکرنے کا حکم دیتے اور صلاۃقضاکرنے کا حکم نہیں دیتے۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ معاذہ سے بھی مروی ہے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے،۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، ہم ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ حائضہ عورت صیام کی قضاکرے گی ، صلاۃ کی نہیں کرے گی۔

۱؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ صوم کی قضااتنی مشکل نہیں ہے جتنی صلاۃ کی قضاہے کیونکہ یہ پورے سال میں صرف ایک بارکی بات ہوتی ہے اس کے برخلاف صلاۃحیض کی وجہ سے ہرمہینے چھ یا سات دن کی صلاۃ چھوڑنی پڑتی ہے، اورکبھی کبھی دس دس دن کی صلاۃ چھوڑنی پڑجاتی ہے، اس طرح سال کے تقریبًا چار مہینے صلاۃ کی قضاء کرنی پڑے گی جو انتہائی دشوارامرہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت