فهرس الكتاب

الصفحة 1331 من 3890

کتاب: حکومت وقضاء کے بیان میں

1331 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ فَسَوْفَ تَدْرِي كَيْفَ تَقْضِي قَالَ عَلِيٌّ فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا بَعْدُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'جب تمہارے پاس دوآدمی فیصلہ کے لیے آئیں توتم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ۱؎ عنقریب تم جان لوگے کہ تم کیسے فیصلہ کرو'۔علی کہتے ہیں: اس کے بعد میں برابرفیصلے کرتارہا۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

۱؎: اوراگردوسرا فریق خاموش رہے، عدالت کے سامنے کچھ نہ کہے، نہ اقرارکرے نہ انکار یا دوسرافریق عدالت کی طلبی کے باوجودعدالت میں بیان دینے کے لیے حاضرنہ ہوتو کیادوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دیا جاسکتا ہے یانہیں؟ قرین صواب بات یہی ہے کہ اس صورت میں عدالت یک طرفہ فیصلہ دینے کی مجازہوگی۔

نوٹ: (متابعات کی بناپر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ اس کے راوی 'حنش' ضعیف ہیں، دیکھئے: ا لإرواء رقم: ۲۶۰۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت