855 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَيَرْفَعُ الرَّجُلُ يَدَيْهِ إِذَا رَأَى الْبَيْتَ فَقَالَ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنَّا نَفْعَلُهُ قَالَ أَبُو عِيسَى رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ وَأَبُو قَزَعَةَ اسْمُهُ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابربن عبداللہ سے پوچھا گیا: جب آدمی بیت اللہ کو دیکھے توکیا اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ حج کیا، توکیا ہم ایسا کرتے تھے ؟۔
امام ترمذی کہتے ہیں: بیت اللہ کودیکھ کر ہاتھ اٹھانے کی حدیث ہم شعبہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، شعبہ ابوقزعہ سے روایت کرتے ہیں، اورابوقزعہ کانام سوید بن حجیر ہے۔
۱؎: یہاں استفہام انکارکے لیے ہے، ابوداودکی روایت میں' ٓأفكنا نفعله'کے بجائے ' فلم يكن يفعله' اور نسائی کی روایت میں'فلم نكن نفعله'ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے اس سے استدلال صحیح نہیں اس کے برعکس صحیح احادیث اورآثار سے بیت اللہ پرنظرپڑتے وقت ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
نوٹ: (سند میں مہاجربن عکرمہ، لین الحدیث راوی ہیں، نیز اس کے متن میں اثبات ونفی تک کا اختلاف ہے)