فهرس الكتاب

الصفحة 859 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

859 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ ابْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مُضْطَبِعًا وَعَلَيْهِ بُرْدٌ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَبْدُ الْحَمِيدِ هُوَ ابْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ ابْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ

یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اضطباع کی حالت میں ۱؎ بیت اللہ کا طواف کیا، آپ کے جسم مبارک پرایک چادر تھی۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ثوری کی حدیث ہے جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے اور اِسے ہم صرف کے اُنہی طریق سے جانتے ہیں، ۳- عبدالحمید جبیرہ بن شیبہ کے بیٹے ہیں، جنہوں نے ابن یعلی سے اور ابن یعلی نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یعلی سے مراد یعلی بن امیہ ہیں رضی اللہ عنہ ۔

۱؎: چادر ایک سرے کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر سینے سے گزارتے ہوئے پیٹھ کی طرف کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پرڈالنے کو اضطباع کہتے ہیں، یہ طواف کے سبھی پھیروں میں سنت ہے، بخلاف رمل کے ، وہ صرف شروع کے تین پھیروں (چکروں) میں ہے، طواف کے علاوہ کسی جگہ اورکسی حالت میں اضطباع نہیں ہے بعض لوگ حج وعمرہ میں احرام ہی کے وقت سے اضطباع کرتے ہیں، اس کی کوئی اصل نہیں بلکہ صلاۃ کی حالت میں یہ مکروہ ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت