فهرس الكتاب

الصفحة 2323 من 3890

کتاب: زہد،ورع، تقوی اور پرہیز گاری کے بیان میں

2323 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَال سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَوَالِدُ قَيْسٍ أَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَوْفٍ وَهُوَ مِنْ الصَّحَابَةِ

مستورد بن شدادفہری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندرمیں ڈبوئے اور پھردیکھے کہ اس کی انگلی سمندرکا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسماعیل بن ابی خالد کی کنیت ابوعبداللہ ہے، ۳-قیس کے والد ابوحازم کانام عبدبن عوف ہے اوریہ صحابی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت