فهرس الكتاب

الصفحة 602 من 3890

کتاب: سفر کے احکام ومسائل

602 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ قَال سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذَا الْحَرْفِ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ يَاسِنٍ قَالَ كُلَّ الْقُرْآنِ قَرَأْتَ غَيْرَ هَذَا الْحَرْفِ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَهُ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ إِنِّي لَأَعْرِفُ السُّوَرَ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ قَالَ فَأَمَرْنَا عَلْقَمَةَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَ كُلِّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ابوو ائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں: ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لفظ ' غَیْرِ آسِنٍ' یا 'یَاسِنٍ' کے بارے میں پوچھاتو انہوں نے کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورا قرآن پڑھ لیاہے؟اس نے کہا:جی ہاں، انہوں نے کہاـ: ایک قوم اسے ایسے پڑھتی ہے جیسے کوئی خراب کھجورجھاڑرہاہو، یہ ان کے گلے سے آگے نہیں بڑھتا، میں ان متشابہ سورتوں کو جانتاہوں جنہیں رسول اللہﷺملا کر پڑھتے تھے۔ ابووائل کہتے ہیں: ہم نے علقمہ سے پوچھنے کے لیے کہاتو انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: انہوں نے بتایاکہ یہ مفصل کی بیس سورتیں ہیں ۱؎ نبی اکرمﷺ ہر رکعت میں دودوسورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: وہ سورتیں یہ ہیں: الرحمن اور النجم کو ایک رکعت میں ، اقتربت اورالحاقہ کو ایک رکعت میں، الذاریات، اور الطورکو ایک رکعت میں، واقعہ اور نون کو ایک رکعت میں، سأل سائل اوروالنازعات کو ایک رکعت میں، عبس اورویل للمطففین کو ایک رکعت میں، المدثراور المزمل کو ایک رکعت میں، ہل أتی علی الإنسان اورلاأقسم کو ایک رکعت میں، عم یتسألون اورالمرسلات کوایک رکعت میں،اورالشمس کوّرت اورالدخان کو ایک رکعت میں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت