فهرس الكتاب

الصفحة 2807 من 3890

کتاب: سلام مصافحہ اور گھر میں داخل ہونے کے آداب واحکام

2807 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ كَرِهُوا لُبْسَ الْمُعَصْفَرِ وَرَأَوْا أَنَّ مَا صُبِغَ بِالْحُمْرَةِ بِالْمَدَرِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُعَصْفَرًا

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص سرخ رنگ کے دوکپڑے پہنے ہوئے گزرا۔ اس نے نبی اکرمﷺ کو سلام کیا تو آپﷺ نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے،۲- اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہواکپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں۔ اورجو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگاجائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو (یعنی زردرنگ کا نہ ہو) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت