فهرس الكتاب

الصفحة 2175 من 3890

کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں

2175 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَال سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَطَالَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا قَالَ أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ وَابْنِ عُمَرَ

خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک بار کافی لمبی صلاۃ پڑھی، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسی صلاۃ پڑھی ہے کہ اس سے پہلے ایسی صلاۃ نہیں پڑھی تھی ، آ پ نے فرمایا:' ہاں، یہ امید و خوف کی صلاۃتھی، میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں مانگی ہیں، جن میں سے اللہ تعالیٰ نے دوکوقبول کرلیا اورایک کو نہیں قبول کیا، میں نے پہلی دعا یہ مانگی کہ میری امت کو عام قحط میں ہلاک نہ کرے ، اللہ نے میری یہ دعا قبول کرلی ، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ ان پرغیروں میں سے کسی دشمن کو نہ مسلط کرے ، اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی ، میں نے تیسری دعا یہ مانگی کہ ان میں آپس میں ایک کودوسرے کی لڑائی کا مزہ نہ چکھاتو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں فرمائی ' ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت