فهرس الكتاب

الصفحة 1271 من 3890

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل

1271 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَبُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ إِيَاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ كَرِهُوا بَيْعَ الْمَاءِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي بَيْعِ الْمَاءِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ

ایاس بن عبدمزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے پانی بیچنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ایاس کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں جابر ، بہیسہ ، بہیسہ کے باپ ، ابوہریرہ ، عائشہ ، انس اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،۳- اکثر اہل علم کااسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے پانی بیچنے کو ناجائزکہا ہے،یہی ابن مبارک شافعی، احمد اوراسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے،۴- اوربعض اہل علم نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے، جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں۔

۱؎: اس سے مرادنہروچشمے وغیرہ کا پانی ہے جوکسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو اوراگرپانی پر کسی طرح کا خرچ آیا ہوتو ایسے پانی کا بیچنامنع نہیں ہے مثلًا راستوں میں ٹھنڈاپانی یا مینرل واٹروغیرہ بیچناجائزہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت