فهرس الكتاب

الصفحة 1471 من 3890

کتاب: شکار کے احکام ومسائل

1471 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَكَرِيَّا عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺسے بغیرپرکے تیرکے شکارکے متعلق پوچھاتو آپ نے فرمایا:' جسے تم نے دھارسے ماراہے اسے کھاؤ اورجسے عرض (بغیردھاردارحصہ یعنی چوڑان ) سے ماراہے تو وہ وقیذہے ۱؎ ۔

اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث صحیح ہے،۲- اہل علم کا اسی پرعمل ہے۔

۱؎: وقیذ: وہ شکار ہے جسے لاٹھی، پتھر اور ایسے ہتھیار سے مارا جائے جو دھار والے نہ ہوں، حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہواکہ جب شکار کے لیے تیر اور اسی جیسے دوسرے دھار دار ہتھیار کا استعمال ہوتو یہ شکار حلال ہے اور اگر چوڑان سے ہوتو حلال نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت