فهرس الكتاب

الصفحة 950 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

950 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوَةً أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَعَلَا فَدْفَدًا مِنْ الْأَرْضِ أَوْ شَرَفًا كَبَّرَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَائِحُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ وَأَنَسٍ وجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ جب کسی غزوے ، حج یاعمرے سے لوٹتے اور کسی بلند مقام پر چڑھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے ، پھر کہتے: ' لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ . آیِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، سَائِحُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. صَدَقَ اللہُ وَعْدَہُ. وَنَصَرَ عَبْدَہُ. وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ '۔ ( اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ سلطنت اسی کی ہے اورتمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں اور وہ ہرچیز پرقادر ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں ،رجوع کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سیر وسیاحت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کردکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہاہی ساری فوجوں کو شکست دے دی) ،امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابن عمر رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،۲- اس باب میں براء ، انس اور جابر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت