فهرس الكتاب

الصفحة 618 من 3890

کتاب: زکاۃ وصدقات کے احکام ومسائل

618 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ ذَكَرَ الزَّكَاةَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا فَقَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَتَطَوَّعَ وَابْنُ حُجَيْرَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُجَيْرَةَ الْمَصْرِيُّ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: 'جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ اداکردی توجوتمہارے ذمہ فریضہ تھا اُسے تم نے اداکردیا ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرمﷺ سے دوسری اورسندوں سے بھی مروی ہے کہ آپ نے زکاۃ کا ذکر کیا، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ نے فرمایا: 'نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل کچھ دو (یہ حدیث آگے آرہی ہے) ۔

۱؎: یعنی مال کے حق میں سے تمہارے اوپرمزیدکوئی اورضروری حق نہیں کہ اس کے نکالنے کا تم سے مطالبہ کیاجائے، رہے صدقہ فطر اور دوسرے ضروری نفقات تو یہ مال کے حقوق میں سے نہیں ہیں، ان کے وجوب کا سبب نفس مال نہیں بلکہ دوسری وقتی چیزیں ہیں مثلًا قرابت اورزوجیت وغیرہ بعض نے کہا کہ ان واجبات کا وجوب زکاۃ کے بعدہواہے اس لیے ان سے اس پر اعتراض درست نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت