فهرس الكتاب

الصفحة 352 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

352 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى بَعِيرِهِ أَوْ رَاحِلَتِهِ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهَتْ بِهِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِالصَّلَاةِ إِلَى الْبَعِيرِ بَأْسًا أَنْ يَسْتَتِرَ بِهِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اپنے اونٹ یا اپنی سواری کی طرف منہ کرکے صلاۃ پڑھی، نیز اپنی سواری پر صلاۃ پڑھتے رہتے چاہے وہ جس طرف متوجہ ہوتی ۱؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی بعض اہل علم کا قول ہے کہ اونٹ کو سترہ بناکر اس کی طرف منہ کرکے صلاۃ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۲؎ ۔

۱؎: پچھلی حدیث کے حاشیہ میں امام ترمذی نے اسی کی طرف اشارہ کیاہے ، ایسے میں شرط صرف یہ ہے کہ تکبیرتحریمہ کے وقت منہ قبلہ کی طرف کرکے اس کے بعد سواری چاہے جدھرجائے، لیکن یہ صرف نفل صلاتوں میں تھا، فرض صلاۃ میں سواری سے اترکرقبلہ رخ ہوکرہی پڑھتے تھے۔

۲؎: اوروہ جوگزراکہ آپ اونٹوں کے باڑے میں صلاۃنہیں پڑھتے تھے اوراس سے منع فرمایا ، تو باڑے کے اندرمعاملہ دوسرا ہے ، اورکہیں راستے میں صرف اونٹ کو بیٹھا کراس کے سامنے پڑھنے کا معاملہ دوسرا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت