فهرس الكتاب

الصفحة 405 من 3890

کتاب: صلاۃ کے احکام ومسائل

405 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى نَزَلَتْ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنْ الْكَلَامِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا تَكَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلَاةَ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ و قَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا تَكَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَجْزَأَهُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پیچھے صلاۃ میں بات چیت کرلیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کرلیا کرتاتھا،یہاں تک کہ آیت کریمہ:'وَقُومُوا لِلَّہِ قَانِتِینَ' ( اللہ کے لیے باادب کھڑے رہاکرو) نازل ہوئی توہمیں خاموش رہنے کا حکم دیاگیا اور بات کرنے سے روک دیاگیا۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی صلاۃ میں قصدًایا بھول کر گفتگو کرلے تو صلاۃ دہرائے ۔ سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اوربعض کا کہنا ہے کہ جب صلاۃ میں قصدًاگفتگو کرے تو صلاۃ دہرائے اور اگر بھول سے یالاعلمی میں گفتگو ہوجائے تو صلاۃ کافی ہوگی،۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎ ۔

۱؎: رسول اکرمﷺ کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے،بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ 'بشرطیکہ تھوڑی ہو'ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کرپاتاہے کہ اسے یادآجاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت