930 حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَإِنَّمَا ذُكِرَتْ الْعُمْرَةُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ يَعْتَمِرَ الرَّجُلُ عَنْ غَيْرِهِ وَأَبُو رَزِينٍ الْعُقَيْلِيُّ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ
ابورزین عقیلی لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے پاس آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ حج و عمرہ کرنے اور سوار ہوکرسفرکرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ (ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا:' تم اپنے والد کی طرف سے حج اورعمرہ کرلو'۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عمرے کا ذکرصرف اسی حدیث میں مذکورہواہے کہ آدمی غیر کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے۔