فهرس الكتاب

الصفحة 2880 من 3890

کتاب: قرآن کریم کے فضائل ومناقب کے بیان میں

2880 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَخِيهِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ سَهْوَةٌ فِيهَا تَمْرٌ فَكَانَتْ تَجِيءُ الْغُولُ فَتَأْخُذُ مِنْهُ قَالَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاذْهَبْ فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَخَذَهَا فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَقَالَ كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ قَالَ فَأَخَذَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَقَالَ كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ فَأَخَذَهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِتَارِكِكِ حَتَّى أَذْهَبَ بِكِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي ذَاكِرَةٌ لَكَ شَيْئًا آيَةَ الْكُرْسِيِّ اقْرَأْهَا فِي بَيْتِكَ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ وَلَا غَيْرُهُ قَالَ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قَالَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ قَالَ صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَفِي الْبَاب عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ

ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتاتھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا:' جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیاہوا ہے تو کہو: بسم اللہ ( اللہ کے نام سے) رسول اللہ ﷺ کی بات مان'، ابوذر رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھاکھاکر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چنانہ انہوں نے اسے چھوڑدیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیے تو آپ نے ان سے پوچھا ،' تمہارے قید ی نے کیاکیا؟!' انہوں نے کہا: اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا:' اس نے جھوٹ کہا: وہ جھوٹ بولنے کاعادی ہے، راوی کہتے ہیں: انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا ، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے (دوبارہ) چھوڑدیا، پھر وہ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا:' تمہارے قیدی نے کیاکیا؟ 'انہوں نے کہا: اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا: اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے'۔ (پھر جب وہ آیا) توا نہوں نے اسے پکڑ لیا،اور کہا:اب تمہیں نبی اکرمﷺ کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑدو، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتارہاہوں ۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیاکرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا'، پھر ابوذر رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: 'تمہارے قیدی نے کیاکیا؟' تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہاتھا۔ آپﷺ نے فرمایا:' اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،۲- اس باب میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت