فهرس الكتاب

الصفحة 744 من 3890

کتاب: روزے کے احکام ومسائل

744 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أُخْتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَمَعْنَى كَرَاهَتِهِ فِي هَذَا أَنْ يَخُصَّ الرَّجُلُ يَوْمَ السَّبْتِ بِصِيَامٍ لِأَنَّ الْيَهُودَ تُعَظِّمُ يَوْمَ السَّبْتِ

عبداللہ بن بسر کی بہن بہیہ صمّاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 'ہفتہ کے دن صوم مت رکھو ۱؎ ، سوائے اس کے کہ جو اللہ نے تم پرفرض کیاہو، اگرتم میں سے کوئی انگور کی چھال اور درخت کی ٹہنی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو اسی کو چبالے (اور صوم نہ رکھے ) ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے ،۲- اوراس کے مکروہ ہونے کامطلب یہ ہے کہ آدمی صوم کے لیے ہفتے (سنیچر) کادن مخصوص کرلے، اس لیے کہ یہودی ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔

۱؎: جمہورنے اسے نہی تنزیہی پرمحمول کیا ہے یعنی صوم نہ رکھنا بہترہے، 'سوائے اس کے کہ اللہ نے تم پر فرض کیا ہوکے لفظ' میں فرض نذرکے کفاروں کے صیام شامل ہیں۔

نوٹ: (اس کی سند میں تھوڑا کلام ہے ، دیکھئے: الإرواء رقم: ۹۶۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت