فهرس الكتاب

الصفحة 896 من 3890

کتاب: حج کے احکام ومسائل

سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹنے کا بیان​

896 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَال سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ يَقُولُ كُنَّا وُقُوفًا بِجَمْعٍ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَكَانُوا يَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ فَأَفَاضَ عُمَرُ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے تھے،عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: مشرکین جب تک کہ سورج نکل نہیں آتا نہیں لوٹتے تھے اور کہتے تھے: ثبیر! تو روشن ہوجا (تب ہم لوٹیں گے) ، تورسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت