فهرس الكتاب

الصفحة 31 من 3890

کتاب: طہارت کے احکام ومسائل

داڑھی کے خلال کرنے کابیان​

31 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ.

قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ و قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: أَصَحُّ شَيْئٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُوعِيسَى: و قَالَ بِهَذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَهُمْ: رَأَوْا تَخْلِيلَ اللِّحْيَةِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ. و قَالَ أَحْمَدُ: إِنْ سَهَا عَنْ تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ فَهُوَ جَائِزٌ. و قَالَ إِسْحَاقُ: إِنْ تَرَكَهُ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلاَ أَجْزَأَهُ، وَإِنْ تَرَكَهُ عَامِدًا أَعَادَ.

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔

امام ترمذی کہتے ہیں: 1۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

2۔ محمدبن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے زیادہ صحیح حدیث عامربن شقیق کی ہے، جسے انہوں نے ابووائل سے اورابووائل نے عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔ 3- صحابہ اور تابعین میں سے اکثراہل علم اسی کے قائل ہیں، ان لوگوں کی رائے ہے کہ داڑھی کا خلال (مسنون) ہے اوراسی کے قائل شافعی بھی ہیں، احمد کہتے ہیں کہ اگرکوئی داڑھی کا خلال کرنابھول جائے تو وضو جائزہو گا،اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھول کرچھوڑدے یاخلال والی حدیث کی تاویل کررہا ہوتو اسے کا فی ہوجائے گااوراگرقصدًا جان بوجھ کرچھوڑے تووہ اسے (وضو کو) لوٹائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت