فهرس الكتاب

الصفحة 1085 من 3890

کتاب: نکاح کے احکام ومسائل

قابل اطمینان دیندارکی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کردینے کاحکم​

1085 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَسَعِيدٍ ابْنَيْ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ فِيهِ قَالَ إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَأَبُو حَاتِمٍ الْمُزَنِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ وَلَا نَعْرِفُ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ

ابوحاتم مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' تمہارے پاس جب کوئی ایسا شخص (نکاح کاپیغام لے کر) آئے ، جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کردو۔ اگر ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اورفساد برپاہوگا ۱؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! اگر اس میں کچھ ہو؟ آپ نے تین باریہی فرمایا:' جب تمہارے پاس کوئی ایساشخص آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کردو ۲؎ ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،۲- ابوحاتم مزنی کوشرف صحبت حاصل ہے، ہم اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث نہیں جانتے جو انہوں نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہو۔

۱؎: مطلب یہ ہے کہ اگرتم صرف مال یا جاہ والے شخص ہی سے شادی کروگے تو بہت سے مردبغیربیوی کے اوربہت سی عورتیں بغیرشوہر کے رہ جائیں گی جس سے زنااورحرام کاری عام ہوگی اور ولی کو عاروندامت کا سامناکرنا ہوگاجوفتنہ وفسادکے بھڑکنے کا باعث ہوگا۔

نوٹ: (شواہد کی بناپر یہ حدیث حسن ہے ، ورنہ اس کے رواۃ 'محمد'اور'سعید' دونوں مجہول ہیں،دیکھئے: اوپر کی حدیث ابی ہریرہ )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت