فهرس الكتاب

الصفحة 1005 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

میت پررونے کی رخصت کا بیان​

1005 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ فَوَجَدَهُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ فَبَكَى فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَتَبْكِي أَوَلَمْ تَكُنْ نَهَيْتَ عَنْ الْبُكَاءِ قَالَ لَا وَلَكِنْ نَهَيْتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ صَوْتٍ عِنْدَ مُصِيبَةٍ خَمْشِ وُجُوهٍ وَشَقِّ جُيُوبٍ وَرَنَّةِ شَيْطَانٍ وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے بیٹے ابراہیم کے پاس لے گئے تو دیکھا کہ ابراہیم کا آخری وقت ہے، نبی اکرمﷺ نے ابراہیم کو اٹھاکراپنی گود میں رکھ لیا اور رودیا۔ عبدالرحمن بن عوف نے کہا:کیا آپ رورہے ہیں؟ کیا آپ نے رونے منع نہیں کیاتھا؟تو آپ نے فرمایا: نہیں، میں تو دو احمق فاجرآوازوں سے روکتاتھا: ایک تو مصیبت کے وقت آوازنکالنے، چہرہ زخمی کرنے سے اور گریبان پھاڑنے سے، دوسرے شیطان کے نغمے سے' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔

۱؎: شیطان کے نغمے سے مرادغناء مزامیرہیں، یعنی گانابجانا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت