باب دوسرا
1041"حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ. حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ. حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ قَال: سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً، وَحَمَلَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا."
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ. وَأَبُوالْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ""
"عبادبن منصورکہتے ہیں کہ میں نے ابوالمہزم کوکہتے سناکہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا۔ میں نے انہیں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سناہے:' جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اوراسے تین بارکندھا دیاتو ، اس نے اپنا حق پورا کردیا جو اس پر تھا'۔"
امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے،۲- اسے بعض نے اسی سند سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے،۳- ابوالمہزم کانام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے انہیں ضعیف کہاہے۔""
نوٹ: (سند میں ابوالمہزم ضعیف راوی ہیں)