فهرس الكتاب

الصفحة 1064 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

شہید کون لوگ ہیں؟​

1064 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنِ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ السَّبِيعِيِّ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ لِخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ أَوْ خَالِدٌ لِسُلَيْمَانَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ نَعَمْ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ فِي هَذَا الْبَابِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ

ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ سلیمان بن صرد نے خالد بن عرفطہ سے (یاخالد نے سلیمان سے) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے نہیں سنا؟ جسے اس کا پیٹ ماردے ۱؎ اسے قبر میں عذاب نہیں دیاجائے گا تو ان میں سے ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا: ہاں (سناہے) ۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- اس باب میں یہ حدیث حسن غریب ہے،۲- اس کے علاوہ یہ اور بھی طریق سے مروی ہے ۔

۱؎: یعنی ہیضہ اوراسہال وغیرہ سے مرجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت