فهرس الكتاب

الصفحة 1067 من 3890

کتاب: جنازے کے احکام ومسائل

جواللہ سے ملنا چاہتاہے ،اللہ بھی اس سے ملناچاہتاہے​

1067 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' جواللہ سے ملنا چاہتاہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتاہے،اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتاہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتاہے'۔تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! ہم سبھی کو موت ناپسند ہے؟تو آپ نے فرمایا: 'یہ مرادنہیں ہے،بلکہ مرادیہ ہے کہ مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی خوشنودی اوراس کے جنت کی بشارت دی جاتی ہے تووہ اللہ سے ملنا چاہتاہے اور اللہ اس سے ملنا چاہتاہے، اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی غصے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتاہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتاہے ' ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎: مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کے وقت اورموت کے فرشتوں کے آجانے کے وقت آدمی میں اللہ سے ملنے کی جو چاہت ہوتی ہے وہ مرادہے نہ کہ عام حالات میں کیونکہ عام حالات میں کوئی بھی مرنے کو پسندنہیں کرتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت