فهرس الكتاب

الصفحة 1124 من 3890

کتاب: نکاح کے احکام ومسائل

نکاح شغار کی حرمت کا بیان​

1124 حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشِّغَارِ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ نِكَاحَ الشِّغَارِ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الْآخَرُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ وَلَا صَدَاقَ بَيْنَهُمَا و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ نِكَاحُ الشِّغَارِ مَفْسُوخٌ وَلَا يَحِلُّ وَإِنْ جُعِلَ لَهُمَا صَدَاقًا وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ يُقَرَّانِ عَلَى نِكَاحِهِمَا وَيُجْعَلُ لَهُمَا صَدَاقُ الْمِثْلِ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا۔

امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پرعمل ہے، یہ لوگ نکاح شغارکو درست نہیں سمجھتے،۳- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کانکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کانکاح اس سے کردے گا اور ان کے درمیان کوئی مہرمقررنہ ہو،۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کردیاجائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کرلیاجائے۔ یہ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے،۵- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کردیا جائے گا،اور یہی اہل کوفہ کابھی قول ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت