فهرس الكتاب

الصفحة 1196 من 3890

کتاب: طلاق اور لعان کے احکام ومسائل

شوہر کی موت پر عورت کی عدت کا بیان​

1196 قَالَتْ زَيْنَبُ فَدَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا لِي فِي الطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

(دوسری حدیث یہ ہے:) زینب کہتی ہیں: پھرمیں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس آئی جس وقت ان کے بھائی کاانتقال ہواتوانہوں نے خوشبو منگائی اوراس میں سے لگایا پھرکہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی ، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے:' اللہ اورآخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے شوہرکے ، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی'۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت