فهرس الكتاب

الصفحة 1223 من 3890

کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل

شہری باہرسے آنے والے دیہاتی کامال نہ بیچے​

1223 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَحَدِيثُ جَابِرٍ فِي هَذَا هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَيْضًا وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ كَرِهُوا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي أَنْ يَشْتَرِيَ حَاضِرٌ لِبَادٍ و قَالَ الشَّافِعِيُّ يُكْرَهُ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإِنْ بَاعَ فَالْبَيْعُ جَائِزٌ

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' کوئی شہری کسی گاؤں والے کا سامان نہ فروخت کرے، تم لوگوں کو (ان کاسامان خود بیچنے کے لیے) چھوڑدو۔ اللہ تعالیٰ بعض کوبعض کے ذریعے رزق دیتاہے'۔

امام ترمذی کہتے ہیں:۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔۲- اس باب میں جابر کی حدیث بھی حسن صحیح ہے۔ ۳-صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پرعمل ہے۔ ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ شہری باہرسے آنے والے دیہاتی کاسامان بیچے،۴- اوربعض لوگوں نے رخصت دی ہے کہ شہری دیہاتی کے لیے سامان خرید سکتا ہے۔ ۵-شافعی کہتے ہیں کہ شہری کادیہاتی کے سامان کو بیچنا مکروہ ہے اوراگروہ بیچ دے تو بیع جائز ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت