فهرس الكتاب
1261 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى التَّوَرُّعِ وَقَالُوا لَا يُعْتَقُ الْمُكَاتَبُ وَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي حَتَّى يُؤَدِّيَ
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:' جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہوکہ وہ زرکتابت اداکر سکے تو اُسے اس سے پردہ کرنا چاہیے'۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کااس حدیث پرعمل ازراہ ورع وتقوی اوراحتیاط ہے۔ یہ لوگ کہتی ہیں کہ مکاتب غلام جب تک زرکتابت نہ اداکردے آزاد نہیں ہوگا اگرچہ اس کے پاس زرکتابت ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہو۔
نوٹ: (سند میں 'نبہان' لین الحدیث ہیں نیز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق امہات المومنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء رقم ۱۷۶۹)